تفصیلات کے مطابق واشنگٹن اور ایران کی جانب سے مشروط دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے پریس بریفنگ دی۔
اپنے خطاب کے آغاز میں امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکا کے لیے خطرہ رہا ہے، تاہم اب یہ صورتحال مزید برقرار نہیں رہی۔ان کے مطابق اگر ایران معاہدہ نہ کرتا تو اسے اپنی تعمیرِ نو میں دہائیاں لگ جاتیں، مگر ایرانی قیادت نے یہ سمجھا کہ معاہدہ کرنا بہتر آپشن ہے۔
پیٹ ہیگسیٹھ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ چند منٹوں میں ایران کی پوری معیشت کو مفلوج کر سکتے تھے، تاہم انہوں نے رحم کا انتخاب کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اس مرحلے کو ممکن بنایا، ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی اور ہم سب یہ جانتے ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق آپریشن ایپک فیوری ایران کے خلاف ایک تاریخی اور فیصلہ کن کارروائی تھی، جس میں امریکی افواج نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
پریس بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیٹھ نے امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والی متعدد ایرانی اعلیٰ شخصیات کا ذکر بھی کیا، جن میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، جو جنگ کے آغاز ہی میں شہید ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابتدا ہی سے اس مؤقف پر واضح رہے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور زیرِ بحث آنے والے معاہدے کے تحت ایران کے پاس موجود وہ تمام جوہری مواد ہٹا دیا جائے گا جو اس کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔
امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق یہ جنگ بندی حقیقی امن اور ایک حقیقی معاہدے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت اپنا کردار ادا کر چکی ہے، تاہم وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار رہیں گے کہ ایران معاہدے کی ہر معقول شرط پر عمل کرے۔
پیٹ ہیگسیٹھ نے اسرائیل کو امریکا کا بہادر، پُرعزم اور باصلاحیت اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک اور امریکا کے بعض نام نہاد اتحادیوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔
واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مواقع پر نیٹو کے اتحادی ممالک، بشمول برطانیہ اور اس کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر، پر امریکا کا ساتھ نہ دینے پر تنقید کر چکے ہیں۔
پیٹ ہیگسیٹھ نے آج کے دن کو عالمی امن کے لیے ایک بڑا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اسے حقیقت بنتا دیکھنا چاہتا ہے اور اب وہ مزید تباہی برداشت نہیں کر سکتا۔
انہوں نے اس پیش رفت کو ایک واضح اور فیصلہ کن فوجی فتح قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو آئندہ کئی برسوں تک لڑائی کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔
ان کے مطابق ایران، جسے انہوں نے دنیا میں ریاستی دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرستقرار دیا، اپنی حفاظت، اپنے عوام اور اپنے علاقے کے دفاع میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں، جن میں ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو غیر مؤثر بنانا شامل ہے اور اب امریکا ان کی فضاؤں پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت قبل سوشل میڈیا پر جنگ بندی سے متعلق پہلی پوسٹ کی تھی۔







