ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کولمبیا کے صدر کو غیر قانونی منشیات کا سرغنہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ملک بھر میں بڑے اور چھوٹے پیمانے پر منشیات کی کاشت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت اور سبسڈی کولمبیا کے لیے نہیں بلکہ امریکا کے لیے دھوکا ثابت ہوئی ہے، لہٰذا اب یہ ادائیگیاں فوری طور پر بند کی جا رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ پیٹرو، جو امریکا مخالف بیانات دینے والا ایک غیر مقبول رہنما ہے، بہتر ہوگا کہ وہ اپنے ملک میں ان ’قتل گاہوں‘ کو فوری طور پر بند کرے، ورنہ امریکا انہیں خود بند کرے گا اور یہ عمل خوبصورتی سے نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے کیریبین سمندر میں امریکی فوجی حملوں کی مذمت کی، جنہیں واشنگٹن منشیات لے جانے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب کولمبین صدر پیٹرو نے ایک بیان میں کہا کہ ستمبر میں امریکا کا ایک میزائل حملہ دراصل ایک ماہی گیر کشتی پر ہوا جو انجن کی خرابی کے باعث سمندر میں پھنسی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں کولمبین شہری الیخاندرو کارانزا ہلاک ہوا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں سے ناراض، دلچسپ ویڈیو جاری کردی

کولمبیا کے صدر نے امریکی کارروائی کو قتل” قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ کشتی ایک عام ماہی گیر کی تھی، اس کا منشیات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ امریکا نے ہماری سرزمین پر حملہ کر کے ایک معصوم کولمبین شہری کو قتل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بولیوار کی سرزمین ہے اور امریکا نے یہاں کے بچوں کو بموں سے مارا ہے۔ ہم امریکا سے وضاحت کے منتظر ہیں۔


امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نہ صرف کولمبیا بلکہ ہمسایہ ملک وینزویلا میں بھی حکومت کی تبدیلی کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ ٹرمپ حکام نے وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو پر ریاستی سطح پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، جسے کارٹیل دے لوس سولیس کہا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  ٹرمپ کا تازہ بیان خطے میں امریکی فوجی مداخلت کے خدشات کو بڑھا رہا ہے، جو لاطینی امریکا میں پہلے سے ہی کشیدگی کا شکار سفارتی تعلقات کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔