پیوٹن کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ماسکو میں موجود ہیں، جہاں وہ یوکرین میں تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہے ہیں۔

ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ہم یورپ کے ساتھ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن اگر یورپ جنگ شروع کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی رہنماؤں کا رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کا کوئی پرامن ایجنڈا نہیں، بلکہ وہ جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پیوٹن نے الزام لگایا کہ یورپی ممالک امریکی امن کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔

پیوٹن کے مطابق یورپی ممالک، ٹرمپ کے پیش کردہ تازہ ترین امن منصوبے میں ایسی ترامیم چاہتے ہیں جن کا واحد مقصد یہ ہے کہ پورے امن عمل کو ناکام بنایا جائے اور ایسے مطالبات شامل کیے جائیں جو روس کے لیے بالکل ناقابلِ قبول ہیں۔

امریکہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی مسودہ پیش کیا تھا، جسے بعد میں کیف اور یورپی ممالک کی تنقید کے بعد ترمیم کیا گیا۔

 یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ مسودہ روس کی کئی زیادہ سے زیادہ شرائط کو پورا کرتا ہے، جس سے یوکرین کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امن منصوبے کو ڈونلڈ ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل ہے، تاہم یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے تحت یوکرین کو روسی مطالبات خصوصاً سرزمین سے متعلق ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے کئی بار واضح کیا ہے کہ یوکرین پر کوئی غیر منصفانہ امن مسلط نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے مزید روسی جارحیت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت ٹرمپ کے ایلچی ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ مشاورت کے بعد امن منصوبے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔