عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں میں مظاہروں کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے بھی مختلف علاقوں میں جھڑپوں اور آتشزدگی کے مناظر دکھائے، جب کہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق رات بھر کے واقعات میں کئی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹیلی وژن خطاب میں احتجاجی مظاہرین پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ انہوں نے مظاہرین پر جلا وطن اپوزیشن گروہوں اور امریکا کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ تہران کے پبلک پراسیکیوٹر نے توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو سزائے موت دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ابتدائی طور پر احتجاج مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہوا تھا، تاہم اب مظاہروں میں براہ راست حکومتی قیادت کے خلاف نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں۔ رواں سال افراطِ زر 40 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جب کہ ایرانی ریال گزشتہ برس ڈالر کے مقابلے میں اپنی نصف سے زائد قدر کھو چکا ہے۔
انٹرنیٹ بندش کے باعث ملک سے معلومات کا بہاؤ بری طرح متاثر ہوا ہے، بیرون ملک فون کالز بھی منقطع ہو گئیں، جب کہ دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم 17 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
ریاستی میڈیا نے احتجاج کا الزام مجاہدین خلق تنظیم (ایم کے او) پر عائد کیا ہے، جب کہ دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں سینکڑوں افراد کے مارچ کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں بعض مظاہرین سپریم لیڈر کے خلاف نعرے لگاتے سنے جا سکتے ہیں۔
بلوچ اکثریتی شہر زاہدان میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مارچ پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکومت ایک جانب معاشی مطالبات کو جائز قرار دے رہی ہے، جب کہ دوسری جانب پرتشدد مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔
مزید پڑھیں: ایران: مظاہروں میں شدت، 36 افراد ہلاک، آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا؟
صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ہفتے حکام کو مظاہرین سے ذمہ دارانہ اور نرم رویہ اپنانے کا مشورہ دیا تھا، تاہم بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث اعلیٰ قیادت کا لہجہ مزید سخت ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے تشدد اور مواصلاتی نظام کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران میں غیر ملکی فوجی مداخلت کے امکانات نہایت کم ہیں۔
واضح رہے کہ ایران ماضی میں بھی 1999، 2009، 2019 اور 2022 میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریکوں کا سامنا کر چکا ہے، جنہیں بالآخر سخت اقدامات کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔







