اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر جاری بیان میں فریڈرک مرز نے  کہا کہ نیٹو میں امریکا سب سے بڑا اور اہم شراکت دار ہے، جو نہ صرف دفاعی معاملات میں بلکہ اسٹریٹیجک پالیسی سازی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے،بعض معاملات پر اختلاف رائے فطری امر ہے، تاہم اس سے اتحاد کی بنیادیں متاثر نہیں ہوتیں۔

جرمن چانسلر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کا تعلق ایران کی صورتحال سے ہے،اس حوالے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں اور دفاعی فیصلے وسیع تر حکمت عملی کے تحت کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارامقصد مشترکہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے،ایران کے ساتھ مثبت بات چیت جاری ہے اور اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔

ادھر اقتصادی محاذ پر بھی امریکا اور یورپ کے درمیان تناؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ہفتے یورپی یونین کی گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد صورتحال پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اٹلی کا دورہ، پوپ لیو سے اہم ملاقات متوقع

وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ کسی ممکنہ تجارتی تنازع سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی یورپی کمیشن سے بھی قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

واضح رہے کہ موجودہ صورتحال میں جہاں ایک طرف نیٹو اتحاد کے اندر سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری جانب تجارتی اختلافات بھی مغربی ممالک کے تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم سفارتی سطح پر جاری رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تمام فریقین مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔