یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود برقرار ہے اور اس کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے اور تیل کی ترسیل سمیت مختلف شعبوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے اہداف کے حصول کے قریب ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے تک نہ پہنچا تو حملوں میں شدت لائی جا سکتی ہے۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ اس بیان کے فوراً بعد ایران کی جانب سے ردعمل سامنے آیا اور اسرائیل میں ایئر ڈیفنس نظام کو فعال کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پولیس اور امدادی ٹیموں نے کارروائیاں کیں، جبکہ چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ایران کے فوجی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا گیا کہ وہ مزید بڑے اور شدید حملوں کے لیے تیار رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مخالفین کو شکست نہ ہو۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’اللہ تعالیٰ پر بھروسے کے ساتھ یہ جنگ آپ کی ذلت، رسوائی، یقینی ندامت اور ہتھیار ڈالے جانے تک جاری رہے گی۔‘

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیل میں مذہبی تہوار پاس اوور منایا جا رہا ہے، جس کے باعث بعض تقریبات حفاظتی اقدامات کے تحت زیر زمین مقامات پر منعقد کی جا رہی ہیں۔

ایک شہری نے، جو ایک بنکر میں تقریب میں شریک تھا، بتایا کہ یہ صورتحال اس کی پہلی ترجیح نہیں تھی، تاہم موجودہ حالات میں پناہ گاہ میں رہ کر وقت گزارنا ہی ممکن ہے۔