ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں انہوں نے گزشتہ روز اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے علی لاریجانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے علی لاریجانی کو ایران کی سیاسی و حکومتی قیادت میں ایک ذہین، وفادار اور نمایاں شخصیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی شخصیت کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کے دشمن ان سے کس قدر خوفزدہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مخالف عناصر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلامی نظام کے درخت کو شہداء کے خون سے مزید تقویت ملتی ہے اور ہر خون کی ایک قیمت ہوتی ہے جس کا حساب قاتلوں کو دینا پڑے گا۔
JUST IN: 🇮🇷 Iran’s Supreme Leader Mojtaba Khamenei says U.S. and Israel "will soon pay" for assassinating of Ali Larijani. pic.twitter.com/vaANWVNN70
— Whale Insider (@WhaleInsider) March 18, 2026
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا، جہاں علی لاریجانی اپنے بیٹے کے ہمراہ موجود تھے۔ حملے کے نتیجے میں وہ اپنے بیٹے سمیت شہید ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ اپارٹمنٹ ان کی بیٹی کا تھا اور وہ اس سے ملاقات کے لیے وہاں آئے تھے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آوروں کو ان کی موجودگی کی اطلاع کیسے ملی۔ ایران کے صدر نے بھی اس واقعے کو ایک بڑا قومی نقصان قرار دیا ہے۔







