صدر پیوٹن نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے نام بھیجے گئے تعزیتی پیغام میں علی لاریجانی کو ایک بااثر، مدبر اور روس کا قریبی دوست قرار دیا،لاریجانی کے ساتھ ان کی متعدد ملاقاتیں رہیں اور وہ ہمیشہ روس کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں سنجیدہ اور مخلص کردار ادا کرتے رہے۔

ان  کا کہنا تھا کہ علی لاریجانی کی شہادت  نہ صرف ایک بڑا انسانی سانحہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خودمختار ریاستوں کی قیادت کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے اور اس طرح کے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں،عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کا نوٹس لے اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے  مزید کہا کہ علی لاریجانی نے روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،لاریجانی کی کمی نہ صرف ایران بلکہ خطے کی سیاست میں بھی طویل عرصے تک محسوس کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ایران اگر قطر پر حملہ کرتا ہےتو امریکا پارس گیس فیلڈ کو تباہ کر دے گا: صدر ٹرمپ

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ روس، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور باہمی تعاون کو جاری رکھے گا، تاکہ خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دیا جا سکے۔

واضع رہے کہ صدر پیوٹن کے اس عمل سے  ظاہر ہوتا ہے کہ روس اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے، اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے سفارتی سطح پر مزید سرگرمیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔