اپنے ایک تفصیلی بیان میں محمد البرادعی کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کم لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ علی لاریجانی نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک سنجیدہ مفکر بھی تھے،جرمن فلسفی امانویل کانٹ پر چار کتابیں تحریر کیں، جو ان کی فکری گہرائی اور علمی وابستگی کا واضح ثبوت ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاریجانی میں مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود تھی اور وہ سفارتکاری کے میدان میں ایک نرم مگر مؤثر انداز رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان کے ساتھ مذاکراتی میز پر پیش رفت ممکن ہوتی تھی۔

مزید پڑھیں: ایران نے ہمارے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کر کے اعتماد کھو دیا ہے، قطری وزیرِ اعظم

انہوں نے انکشاف کیا کہ شہادت سے چند روز قبل علی لاریجانی نے روس کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے کریملن میں ہوئی۔ اس ملاقات سے قبل نماز کا وقت ہونے پر لاریجانی نے سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دروازے کے قریب موجود دو میٹس کو جوڑ کر، کاغذ اور رومال بچھا کر نماز ادا کی۔

ان کے مطابق، ان کی شہادت کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کی اور ان کی شخصیت کے روحانی اور سادہ پہلو کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ علی لاریجانی جیسے رہنما نہ صرف اپنے ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے تھے، اور ان کی کمی ایک سنجیدہ خلا ہے۔