ان کا کہنا تھا کہ اب تک وہ 8 جنگیں ختم کروا چکے ہیں اور یہ سب تجارت کے ذریعے ممکن ہوا ہے، کیونکہ امریکہ جنگ نہیں بلکہ تجارت چاہتا ہے۔
ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں 47 ویں آسیان ممالک کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو جنگ نہیں، معاشی استحکام اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔
انہوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہترین انسان ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی خبریں سنیں مگر پاکستانی قیادت نے جلد معاملات طے کرلیے، جو قابلِ تحسین ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے تجارت کے ذریعے تنازعات حل کیے، کیونکہ معاشی تعلقات دشمنیوں کو دوستی میں بدل سکتے ہیں۔
ان کے بقول تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان طے پانے والا امن معاہدہ لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے اتوار کے روز صدر ٹرمپ کی موجودگی میں جامع جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ معاہدہ امریکی صدر کی ثالثی سے طے پایا، جنہوں نے جولائی میں دونوں ممالک کے درمیان جاری خونریز سرحدی تنازع ختم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔
نیا معاہدہ تین ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی کو مزید مضبوط بناتا ہے، جب ٹرمپ نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دشمنی ختم کرنے یا تجارتی تعلقات معطل ہونے کے خدشے سے آگاہ کیا تھا۔
قبل ازیں، صدر ٹرمپ آسیان کے 47 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کوالالمپور پہنچے تو ملائیشیا کے وزیراعظم نے ریڈ کارپٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
مریکی صدر نے موقع پر ملائیشیا کے قومی رقص میں بھی حصہ لیا اور میزبان وزیراعظم سے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔
کوالالمپور میں جاری تین روزہ اجلاس میں چین کے صدر سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں غزہ کی صورتحال، میانمار کی خانہ جنگی اور خطے کے دیگر اہم مسائل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔







