ویٹیکن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کلیسا کا بنیادی مقصد انجیل کی تعلیمات کو پھیلانا اور انسانیت کے درمیان محبت، برداشت اور امن کو فروغ دینا ہے،اگر ان کے خیالات یا بیانات پر کوئی تنقید کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے، تاہم وہ امید رکھتے ہیں کہ ان کے مؤقف کو بھی سنجیدگی سے سنا جائے گا۔

پوپ لیو نے کہا کہ اختلافِ رائے کسی بھی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے، مگر ضروری یہ ہے کہ اس اختلاف کو مکالمے اور احترام کے دائرے میں رکھا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ برداشت اور باہمی احترام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو اور مشترکہ اقدار کو فروغ ملے۔ ان کے مطابق مسیحیت کا اصل پیغام محبت، معافی اور انسانیت کی خدمت ہے، جسے موجودہ دور میں مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

مسیحی رہنما  کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو صرف مذہبی قیادت تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ عالمی سطح پر امن، انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے آواز اٹھانا بھی ان کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی کوششوں پر تنقید بھی ہوتی ہے تو وہ اسے مثبت انداز میں لیتے ہیں اور اسے مکالمے کا حصہ سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آبنائےہرمز عالمی گزرگاہ ہے، اسے کوئی بھی ملک کنٹرول نہیں کرسکتا، ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے: امریکی وزیرخارجہ

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان پر تنقید کی گئی تھی، جس کے بعد عالمی سطح پر مذہب اور سیاست کے تعلق پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ  پوپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں تنازعات بڑھ رہے ہیں، اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے امن اور ہم آہنگی کے پیغامات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔