ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے پیر کے روز عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز کو عارضی جنگ بندی کے بدلے دوبارہ کھولنے پر آمادہ نہیں، جب کہ تہران کے مطابق واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔

عہدیدار کے مطابق ایران کو پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے، جس پر غور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی دباؤ کے تحت ڈیڈ لائنز یا فوری فیصلے قبول نہیں کرے گا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

یہ بیان روئٹرز کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے ایک نئے منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے پیش کیا گیا 15 نکاتی منصوبہ ہماری نظر میں کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات الٹی میٹمز اور جنگی جرائم کی دھمکیوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بیان انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تنبیہ کے تناظر میں دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ایران نے اپنے مفادات اور ضروریات کی بنیاد پر مطالبات کا ایک جامع خاکہ تیار کیا ہے۔ ان کے بقول ہم شروع سے جانتے تھے کہ ہمیں کیا چاہیے اور کون سی سرخ لکیریں ہم عبور نہیں کریں گے۔ ہماری پوزیشن آج بھی واضح ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے اپنے جوابات مکمل طور پر تیار کر لیے ہیں اور مناسب وقت پر ان کی تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی اور برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کو 45 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پر مشتمل ایک مسودہ موصول ہوا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مسودہ پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی روز سے جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اتوار کی شب ان تجاویز پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مسودہ اتوار کی شب عباس عراقچی اور سٹیو وٹکوف کو ارسال کیا گیا، تاہم دونوں جانب سے تاحال اس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ ممالک کو امید ہے کہ 45 روزہ جنگ بندی کے دوران مذاکرات کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایران نے امریکی صدر کے بیان کو جنگی جرائم کی دھمکی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔