اس پروگرام کے تحت امریکا ہر سال اُن ممالک کے شہریوں کو لاٹری کے ذریعے 50 ہزار ویزے جاری کرتا ہے، جن کی امریکا میں امیگریشن کی شرح کم ہوتی ہے۔ تاہم حالیہ واقعے کے بعد امریکی حکومت نے اس پروگرام پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے گرین کارڈ لاٹری پروگرام کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ کسی تباہ کن نتائج کے حامل پروگرام کی وجہ سے مزید امریکی شہری نقصان سے دوچار نہ ہوں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے مشتبہ حملہ آور کا تعلق پرتگال سے بتایا گیا ہے، جو 2017 میں گرین کارڈ لاٹری پروگرام کے تحت امریکا آیا تھا اور بعدازاں اسے گرین کارڈ جاری کیا گیا تھا۔

براؤن یونیورسٹی امریکا کی قدیم ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے اور اسے شمال مشرقی امریکا کی آٹھ بڑی نجی یونیورسٹیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور 48 سالہ کلاڈیو نوس ویلنٹ پر یہ بھی شبہ ہے کہ اس نے رواں ہفتے کے آغاز میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پرتگالی پروفیسر نونو لوریرو کو بھی ہلاک کیا تھا۔

امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوم کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی 2017 میں نیویارک سٹی میں ہونے والے ٹرک حملے کے بعد، جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، گرین کارڈ لاٹری پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔