خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام اور دفاعی توازن کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون، معلومات کے تبادلے اور تکنیکی شراکت میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا اور بھارت کی دفاعی شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق، معاہدے پر دستخط کوالالمپور میں ہونے والی آسیان ڈیفنس منسٹرز میٹنگ-پلس کے موقع پر ہوئے، جو ہفتے سے شروع ہو رہی ہے۔
دستخط کے بعد پیٹ ہیگسیتھ نے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور بھارت کی شراکت داری دنیا کی اہم ترین شراکت داریوں میں سے ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا اسٹریٹجک اتحاد باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور ایک محفوظ و خوشحال بحرہند-بحرالکاہل خطے کے عزم پر قائم ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ یہ 10 سالہ دفاعی فریم ورک ایک جامع اور اہم معاہدہ ہے جو مستقبل میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مزید قریبی تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کے طویل المدتی عزم اور مشترکہ سلامتی کے عہد کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب چند روز قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ملائیشیا میں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات روسی تیل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔
جے شنکر نے سوشل میڈیا پر مارکو روبیو کے ساتھ مصافحے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر مفید گفتگو ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، اگست میں امریکا اور بھارت کے تعلقات اس وقت تناؤ کا شکار ہو گئے تھے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی درآمدات پر محصولات 50 فیصد تک بڑھا دیے تھے اور نئی دہلی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ماسکو سے سستا تیل خرید کر روس کی جنگی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ مودی نے روسی تیل کی درآمدات میں کمی پر اتفاق کیا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔
اسی دوران امریکا نے ایچ-ون بی ویزا رکھنے والے ہنرمند کارکنوں کے لیے ایک بار کی بنیاد پر ایک لاکھ ڈالر کی اضافی فیس عائد کی تھی، جن میں اکثریت بھارتی شہریوں کی ہے۔ نئی دہلی نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام انسانی مسائل اور خاندانی مشکلات کو جنم دے سکتا ہے۔







