رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم حکام کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ممکنہ فوجی کارروائیوں کی تیاریوں میں تیزی پیدا کر دی ہے اور نئے حملے جلد دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ممکنہ منصوبوں میں ایران کی فوجی تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتایا گیا ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ مقامات پر رکھے گئے ہیں۔

/p>

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا تھا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل چاہتا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔