روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے حملے یکطرفہ، جارحانہ اور بلا اشتعال تھے، جن کے نتائج انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے،یہ کارروائیاں خطے میں عدم استحکام اور خطرات میں اضافے کا سبب بنیں اور فوجی اقدامات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔
ماریا زاخارووا نے روسی ریڈیو اسپوٹنک سے گفتگو میں کہا کہ اس تنازعے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کرے، مذاکرات اور سیاسی بات چیت ہی اس بحران کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہیں، جس میں تمام فریقین کے مؤقف کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جائے۔
روسی حکام کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں مختلف ممالک جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔ روس نے خاص طور پر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جارحانہ کارروائیوں سے گریز کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سیاسی راستے اپنائیں۔
ماہرین کے مطابق روس کی اس وضاحت کا مقصد عالمی سطح پر امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں امن کے لیے مذاکراتی ماحول کو فروغ دینا ہےن،طاقت کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ناکام رہیں گی اور یہ خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاكستان كی سفارتی كامیابی، امریكی صدر نے 14 روز كی جنگ بندی كی توسیع كردی
اس پیش رفت کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور عالمی تجزیہ کار مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر تبصرے کر رہے ہیں، اور دنیا بھر میں امن قائم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں، تاکہ انسانی جانوں اور اقتصادی وسائل کو نقصان سے بچایا جا سکے اور عالمی سطح پر استحکام قائم ہو سکے۔ اس پس منظر میں سفارتی کوششیں اب پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور عالمی برادری کی توجہ اس پر مرکوز ہو گئی ہے۔







