امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک سینئر امریکی سفارتکار نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ہونے والی ملاقاتوں کا ماحول مجموعی طور پر مثبت اور تعمیری رہا۔ فریقین نے نہ صرف موجودہ جنگ بندی کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے پر تبادلہ خیال کیا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔

سفارتکار کے مطابق مذاکرات کے دوران لبنان کی صورتحال خصوصی طور پر زیر بحث آئی اور اس بات پر غور کیا گیا کہ سرحدی کشیدگی اور ممکنہ عسکری تصادم کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ دونوں جانب سے اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔ امریکی وفد نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس اہم بحری گزرگاہ کا مکمل طور پر کھلا اور محفوظ رہنا ناگزیر ہے۔ اس معاملے پر بات چیت میں حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی اور فریقین نے سمندری راستوں کے تحفظ کی اہمیت سے اتفاق کیا۔

امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اختتام پر سیاسی قیادت اور تکنیکی ماہرین کی ٹیموں کے درمیان مستقبل میں رابطوں کے طریقہ کار، ملاقاتوں کے شیڈول اور مشاورتی عمل کے حوالے سے ایک بنیادی فریم ورک پر اتفاق رائے حاصل کرلیا گی،  اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شریک چاروں فریق آج ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے دکھائی دیے اور اس بات پر زور دیا گیا کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ تنازعات کے حل اور خطے میں امن کے قیام کے امکانات مزید مضبوط ہوسکیں۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز امریکا اور ایران کے وفود سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت پہاڑی علاقے برگن سٹاک میں مذاکراتی عمل میں شریک ہوئے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کے آغاز پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں اور مصافحوں کو عالمی میڈیا نے غیرمعمولی سفارتی منظر قرار دیا اور انہیں خطے میں ممکنہ مثبت تبدیلیوں کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات عالمی امن، علاقائی استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہوئے ایسے فیصلے کریں گے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہوں۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی،  آبنائے ہرمز بند کی تو ایران کو تباہ کر دیں گے 

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا قیام امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی اور تعمیری سمت اختیار کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ تمام معاملات باہمی احترام اور سفارتی اصولوں کے تحت آگے بڑھائے جائیں۔

قطر کے وزیراعظم نے بھی مذاکرات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بات چیت نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکراتی عمل آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت کا باعث بنے گا اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کرے گا۔