بیجنگ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ دن ان کے لیے انتہائی اہم اور خوشگوار ہے، اور چینی صدر کے ساتھ ملاقات ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی مثبت، تعمیری اور مستقبل پر مبنی گفتگو ہوئی ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں،  دونوں ممالک کے درمیان معاشی، تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات عالمی استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ 24 ستمبر کو چینی صدر کو امریکا کے دورے کی دعوت دیتے ہیں، اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت ایسے وقت کی ضرورت ہے جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلیں اور تعاون کے ذریعے ترقی اور استحکام کو فروغ دیں۔

دوسری جانب امریکی وائٹ ہاؤس کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھا جانا چاہیے تاکہ عالمی توانائی کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: چین اور امریکا کے تعلقات تعاون، باہمی احترام اور عالمی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں: چینی صدر

وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے توانائی کی سپلائی چین میں کسی بھی رکاوٹ سے بچنے اور عالمی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

چینی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کے ساتھ تعلقات کی نئی سمت اور مثبت پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو اختلافات کے باوجود تعاون اور مکالمے کو جاری رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ  امریکا اور چین کے درمیان حالیہ رابطے عالمی سیاست اور معیشت میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم دونوں طاقتوں کے درمیان اعتماد کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔