غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گرین لینڈ کی سیاست دان آجا کیم نٹس اور دوسری گرین لینڈک رکن پارلیمنٹ آکی-متیلدا ہوئگ ڈام اس وقت غیر معمولی میڈیا دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر گرین لینڈ کی حیثیت اور مستقبل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ دونوں رہنما کوپن ہیگن اور نوک کے درمیان وقت تقسیم کر رہی ہیں۔
آجا کیم نٹس کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ محض ایک خطہ نہیں بلکہ ایک شناخت، زبان اور ثقافت ہے، جسے خریدا نہیں جا سکتا۔ اگر گرین لینڈ امریکی شہری بن گیا تو اس کی شکل ہی بدل جائے گی اور گرین لینڈ کی اکثریت ایسا نہیں چاہتی۔
دوسری جانب آکی-متیلدا ہوئگ ڈام نے کہا کہ گرین لینڈ کے 56 ہزار باشندوں کے لیے یہ وقت انتہائی بے چینی کا باعث ہے۔ گرین لینڈ صدیوں تک بڑی عالمی طاقتوں سے دور رہا، مگر اب خود کو کونے میں گھرا ہوا محسوس کر رہا ہے، جس سے عوام میں خوف اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔
خیال رہے کہ گرین لینڈ اگرچہ ڈنمارک کے اندر خود مختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم دفاع اور خارجہ پالیسی اب بھی کوپن ہیگن کے کنٹرول میں ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال دوسری جنگ عظیم کے بعد ڈنمارک کو درپیش بدترین سفارتی بحران ہے۔
لازمی پڑھیں: گرین لینڈ میں کچھ نہ کیا تو روس اور چین اس پر قبضہ کر لیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکا کو اپنی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں موجود نایاب معدنیات اور تیل کے ذخائر بھی امریکی دلچسپی کی بڑی وجہ ہو سکتے ہیں، جب کہ کچھ حلقے اسے ٹرمپ کی تاریخی وراثت قائم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کو ریئل اسٹیٹ ڈیل کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آسان طریقہ نہ اپنایا گیا تو سخت راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جس پر گرین لینڈ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
گرین لینڈک میڈیا کے مطابق عوام اور سیاست دانوں میں خدشہ بڑھ رہا ہے کہ امریکا عسکری دباؤ بھی استعمال کر سکتا ہے۔ ڈنمارک کی حکومت نے گرین لینڈ کے ساتھ مل کر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی درخواست کی ہے، جسے اس تنازع میں فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
گرین لینڈ کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ نہ امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ڈینش، بلکہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ گرین لینڈر رہنا چاہتے ہیں۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ ایک پرعزم اور باوقار قوم ہے اور کسی بھی نئی نوآبادیاتی کوشش کو قبول نہیں کرے گی۔







