عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اعلان پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ اور فلپائن کے وزیر دفاع گیلبرٹو ٹیودورو کی ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ آسیان وزرائے دفاع اجلاس کے موقع پر ملاقات کے بعد کیا۔
TASK FORCE PHILIPPINES’
— NewsWatch Plus PH (@newswatchplusph) October 31, 2025
LOOK: US Secretary of War Pete Hegseth and Defense Secretary Gibo Teodoro launched Task Force Philippines, a new joint initiative to strengthen defense ties and deter Chinese coercion in the West Philippine Sea.
Both reaffirmed the Mutual Defense… pic.twitter.com/SA7TqrstYZ
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے بیان کے مطابق، ٹاسک فورس-فلپائنز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور خصوصاً جنوبی بحیرہ چین جیسے حساس علاقوں میں مشترکہ فوجی تیاریوں کو بہتر بنانا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کے روز اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے دوران واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے خلاف چین کے بڑھتے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا اشارہ جنوبی بحیرہ چین میں فلپائن کے ساتھ بار بار ہونے والی جھڑپوں اور آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ فضائی نگرانی کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی کی طرف تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو جنوبی بحیرہ چین کے متنازع علاقوں اور تائیوان کے اردگرد چین کی سرگرمیوں پر بھی گہری تشویش ہے۔
US, Philippines form military task force for areas including South China Sea, Pentagon says https://t.co/vt4kFqbks6 https://t.co/vt4kFqbks6
— Reuters (@Reuters) October 31, 2025
پینٹاگون کے مطابق، امریکا اور فلپائن کے وزرائے دفاع نے اپنی چوتھی دوطرفہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں دفاعی توازن کو بحال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا اور فلپائن کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود ہے، جس کے تحت کسی بھی حملے کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک نے دفاعی شراکت داری کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اگلے دو برسوں میں بڑے ترجیحی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔







