عالمی خبررساں اداروں کے مطابق تقریباً 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل قشم جزیرہ خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق قشم جزیرے کی جغرافیائی اہمیت اور اس پر موجود فوجی تنصیبات اسے امریکا کے لیے ایک اہم ہدف بناتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے جزیرے کے اندر زیرِ زمین سرنگوں اور قدرتی نمکی غاروں کے وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں، جہاں ساحلی میزائل نظام، تیز رفتار حملہ آور کشتیاں اور دیگر حساس فوجی سازوسامان محفوظ رکھا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے بعض تجزیہ کار قشم کو ایران کا  ناقابلِ غرق طیارہ بردار بحری جہاز  قرار دیتے ہیں۔

قشم جزیرے کے نیچے قائم ایرانی  میزائل سٹیز  بھی امریکی خدشات کا ایک بڑا سبب ہیں۔ ان زیرِ زمین فوجی تنصیبات میں ایسے ساحلی میزائل نصب کیے گئے ہیں جن کا مقصد جنگی صورتحال میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنا یا بند کرنا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران ماضی میں قشم جزیرے کو عالمی تیل اور گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، جس کے باعث واشنگٹن اسے خطے میں جاری توانائی اور بحری سلامتی کی کشمکش کا مرکزی مقام سمجھتا ہے۔

قشم جزیرہ گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اہم محاذ بھی بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا و ایران میں دوبارہ کشیدگی، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

متعدد مواقع پر ایران کی جانب سے خطے میں امریکی مفادات یا فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوج نے قشم میں موجود پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں اور مواصلاتی نظام پر حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے، قشم جزیرہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی و عسکری کشمکش کا ایک حساس اور اہم مرکز بنا رہے گا۔