پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہے۔

تفصیلات کے مطابق وارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر  کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام مختلف فوجی اور سیاسی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں اور عسکری تیاریوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جب کہ خطے میں تعینات اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

 شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر محفوظ پناہ گاہوں اور بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں حالات کسی بھی وقت سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔