ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تمام شقیں ایران کے حق میں ہیں اور جلد ہی ان مذاکرات اور بات چیت کے نتائج دنیا کے سامنے آ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے اپنی حالیہ تقاریر میں ایران پر مختلف پابندیوں اور قدغنوں کی بات کی تھی، اب انہی امور کو ایرانی عوام اور ریاست کے جائز حقوق تسلیم کر رہے ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ قطر میں موجود ہمارے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کیے جائیں گے۔
انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں جاری ایران۔امریکا مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ ان مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش ہونے والے شخص ہوں گے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی بنیادی شرط صرف یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور یہ وہ مؤقف ہے جسے ایران کی قیادت پہلے بھی کئی بار واضح کر چکی ہے۔
انہوں نے شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے فتوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم جوہری بم نہیں چاہتے۔ یہ وہ بات ہے جسے ہمارے رہنما بارہا دہرا چکے تھے۔
مزید پڑھیں: سوئٹزرلینڈ میں امریکا۔ایران مذاکرات، کون شریک ہوگا اور ایجنڈا کیا ہے؟
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران سے کہا کہ اس مؤقف کو تحریری شکل دے کر معاہدے کا حصہ بنایا جائے، جس پر ایران نے دستخط کر دیے۔
خیال رہے کہ صدر پزشکیان کے بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود سوئٹزرلینڈ میں مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔






