غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان زیر غور مجوزہ مفاہمتی یادداشت ایک عبوری فریم ورک کے طور پر تیار کی گئی ہے، جب کہ حتمی معاہدے پر آئندہ 60 روز کے دوران مزید مذاکرات کیے جائیں گے۔
عہدیدار کے مطابق مجوزہ یادداشت کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھول دے گا، جب کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ یہ پیش رفت عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔
معاہدے کے اقتصادی پہلوؤں کے تحت امریکا اس بات پر آمادہ ہوا ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک ایران پر کوئی نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں بھی مخصوص مدت کے لیے نرمی دی جائے گی، جس کے نتیجے میں ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی تک رسائی مل سکے گی۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے تقریباً 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ان اثاثوں کی واپسی مختلف ذرائع سے ممکن بنائی جائے گی جن میں براہ راست نقد ادائیگیاں، خطے کے ممالک کے تعاون سے مالیاتی انتظامات اور خصوصی کریڈٹ لائنز شامل ہو سکتی ہیں۔
جوہری پروگرام سے متعلق شقوں کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
Iranian Foreign Minister Abbas @Araghchi gave a lengthy interview to Iranian state television yesterday offering Tehran s framing of the prospective agreement with the United States.
— Sina Toossi (@SinaToossi) June 13, 2026
Much of his presentation appeared aimed at the domestic political debate surrounding the deal,… pic.twitter.com/4TfDpvHclu
مزید برآں، حتمی معاہدے تک ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھے گا، جس کا مطلب ہے کہ نہ یورینیم کی مزید افزودگی کی جائے گی اور نہ ہی جوہری تنصیبات میں توسیع ہوگی۔
سینیئر ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا۔ اس عمل کے طریقہ کار اور نگرانی کے نظام پر دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران مزید بات چیت کریں گے۔
مجوزہ معاہدے کے باوجود اس حوالے سے ابہام برقرار ہے کہ آیا جنگ کے خاتمے اور مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط آج ہوں گے یا نہیں۔
اس حوالے سے واشنگٹن اور تہران کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط کیے جائیں گے اور یہ پیش رفت خطے میں استحکام کا نیا باب کھولے گی۔
دوسری جانب ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی سالگرہ کے موقع پر 14 جون کو معاہدے کی تقریب منعقد کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے علامتی اور سیاسی اہمیت دی جا سکے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد سفارتی پیش رفت سے زیادہ داخلی سیاسی تشہیر حاصل کرنا ہے۔ اگر مجوزہ یادداشت پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی امن و استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقوں کو اب بھی کئی حساس اور پیچیدہ معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔






