امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں، جہاں وہ مذاکرات کے تکنیکی امور کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جے ڈی وینس نے بتایا کہ ان کی آج صبح جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف سے بات ہوئی ہے اور ان کے مطابق مذاکراتی تیاریوں کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خود آئندہ دو روز میں سوئٹزرلینڈ پہنچیں گے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا مذاکراتی وفد پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وفد میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی، نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔
📌 Iran delegation led by Parliament Speaker Mohammad Bagher Qalibaf and Foreign Minister Abbas Araghchi to travel to Switzerland for talks with US
— Anadolu English (@anadoluagency) June 20, 2026
📍 Central bank chief Abdolnasser Hemmati and security official Ali Bagheri Kani join team for negotiations on implementation of… pic.twitter.com/FDJHmBEnrj
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی شرکت کا مقصد دوسرے فریق سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حتمی معاہدے پر باضابطہ مذاکرات اسی وقت شروع ہوں گے جب مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ایک، چار، پانچ، 10 اور 11 پر عملی پیش رفت اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران آئندہ مذاکرات میں امریکا پر اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان، جو ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تصدیق کر چکا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن شٹاخ میں ہوں گے، جن میں امریکی اور ایرانی نمائندے شرکت کریں گے۔






