خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی تیاری جاری ہے۔ ان مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کر سکتے ہیں، جب کہ ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف سمیت دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ  انتہائی مضبوط  بات چیت ہوئی ہے اور کئی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سفارتی عمل کو موقع دینے کے لیے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گزشتہ 24 دنوں میں امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔


ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی بیانات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

ادھر ترکیے، پاکستان اور مصر پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں سرگرم ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی وفد میں جیراڈ کشنر بھی شامل ہو سکتے ہیں، جب کہ ایران کے ساتھ رابطوں میں پیش رفت ہو رہی ہے اور بات چیت کا محور جنگ کا خاتمہ اور حل طلب معاملات کا حل ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے، تاہم ایران نے تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا۔

ذرائع کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں تو اسلام آباد جلد ہی ایک اہم عالمی مذاکراتی مرکز بن سکتا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔