ان کی مدتِ اقتدار کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سخت سیاسی اختلافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رات بارہ بجتے ہی، سن 2026 کے آغاز کے ساتھ، زہران ممدانی نے ایک متروک سب وے اسٹیشن میں حلف اٹھایا اور امریکا کے سب سے بڑے شہر کی باگ ڈور سنبھال لی۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر ہیں۔

ان کے دفتر کے مطابق سٹی ہال کے نیچے واقع سادہ مقام کا انتخاب محنت کش طبقے سے وابستگی کی علامت ہے، کیونکہ 34 سالہ ڈیموکریٹ رہنما نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے خلاف مہم چلائی تھی۔

حلف کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زہران ممدانی نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز اور اعتمادی ذمہ داری ہے۔

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ جو رہنما ایک سال قبل تک تقریباً غیر معروف تھے، وہ کرایوں پر پابندی، مفت پبلک بسیں اور یونیورسل چائلڈ کیئر جیسے اپنے بڑے وعدے پورے کر پائیں گے یا نہیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے لیکچرر جان کین کے مطابق انتخابات کے بعد علامتی اقدامات کافی نہیں ہوتے، ووٹرز کے لیے عملی نتائج زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ بھی اس دورِ اقتدار میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ، جو خود بھی نیویارک سے تعلق رکھتے ہیں، ممدانی پر بارہا تنقید کر چکے ہیں، تاہم نومبر میں وائٹ ہاؤس میں دونوں کے درمیان غیر متوقع طور پر خوشگوار ملاقات بھی ہوئی تھی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور تجزیہ کار لنکن مچل کے مطابق یہ ملاقات ممدانی کے لیے مثبت رہی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تعلقات جلد کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

ممکنہ تنازعہ امیگریشن کے معاملات پر ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بھر میں تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ زہران ممدانی نے امیگرنٹ کمیونٹیز کے تحفظ کا وعدہ کر رکھا ہے۔

نومبر کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر نیویارک نے ممدانی کو منتخب کیا تو وفاقی فنڈز کم کر دیے جائیں گے، جبکہ انہوں نے ممدانی کو ایک بار "کمیونسٹ پاگل" بھی کہا تھا۔ دوسری جانب ممدانی نے ٹرمپ کو فاشسٹ قرار دیا ہے۔

چار سالہ مدت کے آغاز پر ہونے والی نجی حلف برداری نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کرائی، جنہوں نے ماضی میں ٹرمپ کے خلاف فراڈ کے مقدمے میں کامیاب کارروائی کی تھی۔

بعد ازاں ایک بڑی اور رسمی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں سینیٹر برنی سینڈرز اور کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز خطاب کریں گی۔ تقریب میں چار ہزار سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ براڈوے پر بڑی اسکرینوں کے ذریعے عوام کے لیے تقریب دکھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

نیویارک کی تاریخ میں پہلی بار زہران ممدانی نے حلف کے لیے کئی قرآن مجید استعمال کیے، جن میں دو ان کے خاندان کے اور ایک سیاہ فام مصنف آرتورو شومبرگ کا تھا۔

میئر بننے کے بعد وہ کوئنز میں واقع اپنے کرایہ کنٹرول اپارٹمنٹ سے مین ہیٹن میں واقع میئر ہاؤس منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ زیادہ تر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔

یوگنڈا میں بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہونے والے زہران ممدانی سات برس کی عمر میں نیویارک آئے تھے۔ محدود سیاسی تجربے کے باوجود وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن رہے اور اب میئر منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے اپنی کم تجربہ کاری کے ازالے کے لیے تجربہ کار مشیروں اور سابق میئرز اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے وابستہ افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔

فلسطینی حقوق کے حامی ہونے کے باعث انہیں یہودی کمیونٹی کو اپنی شمولیتی قیادت کا یقین بھی دلانا ہوگا۔ حال ہی میں ان کی ایک نامزد ملازمہ نے ماضی میں یہود مخالف ٹویٹس سامنے آنے پر استعفیٰ دے دیا تھا۔