تہران میں پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو امریکا سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، جب کہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری ادارے (IAEA) کے سربراہ رافائل ماریانو گروسی بھی صورتحال کو درست انداز میں نہیں دیکھ رہے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جانبدارانہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل ایران کے خلاف جانبداری دکھا رہے ہیں اور یہ رویہ جان بوجھ کر اختیار کیا جا رہا ہے۔
Irans foreign ministry spokesperson:
— Nahid (@NahidPoureisa) June 8, 2026
US is fully accountable for the attacks against Iran and Lebanon. We are informed Centcom has provided support for offensive and defensive acts of Israel. pic.twitter.com/MS082rSEJ6
ایران کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا اہم حصہ ہے اور امریکا و اسرائیل اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ادھر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے ایران کے جنوب مغربی شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، جس کے بعد یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جب کہ اسرائیلی دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے میں مصروف رہا۔






