سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔
ایرانی صدر کی جانب سے پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کے اعلان کے باوجود دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے قریب ایک ڈرون گرا جبکہ قطر کا بھی یہ کہنا ہے کہ اس نے ایک میزائل کو روکا ہے۔
بعدازاں ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ آج ایران کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران میں مکمل تباہی اور یقینی موت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایسے علاقوں اور افراد کو نشانہ بنایا جائے گا جنھیں اب تک ہدف نہیں بنایا گیا۔‘
اس قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہمسائیہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے اور اسی مقصد کے تحت پڑوسی ممالک کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی سرزمین کو کسی قسم کے حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے گزشتہ دنوں ہونے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کارروائیوں سے کسی بھی پڑوسی ملک کو تشویش یا نقصان پہنچا ہے تو ایران اس پر معذرت خواہ ہے، ایران کا دیگر ممالک کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں اور تہران خطے میں تعاون اور اعتماد کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق عبوری لیڈر شپ کونسل نے اس بات کی باضابطہ منظوری دے دی ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے حملے یا میزائل کارروائی نہیں کی جائے گی، ایران صرف اسی صورت میں ردعمل دے گا جب کسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا جائے گا۔







