عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس کی جانب سے متعدد تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اسٹیفن ملر کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ اپنے وفادار ساتھیوں کو مزید اہم ذمہ داریاں دے رہے ہیں۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ملر کو اپنے قابلِ اعتماد مشیروں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ سوسی وائلز نے بھی بہترین کام کیا ہے۔

41 سالہ اسٹیفن ملر ٹرمپ کے طویل عرصے سے قریبی ساتھی ہیں اور ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ان کی پہلی اور دوسری صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دیں۔

2025میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ملر ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر تعینات تھے، تاہم انہیں صدر کی داخلی پالیسیوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہا۔

وہ بالخصوص ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے اہم منصوبہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی جانب سے روزانہ 3 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کے تحت امریکی امیگریشن حکام نے ملک بھر میں کارروائیاں تیز کر دیں۔

رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق اس امیگریشن پالیسی کی عوامی حمایت محدود ہے۔ سروے میں 36 فیصد امریکیوں نے اس کی حمایت کی، جب کہ 54 فیصد نے مخالفت کی۔

ملر وفاقی سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، ہزاروں سرکاری ملازمین کی برطرفیوں اور جامعات سمیت مختلف اداروں کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

خارجہ پالیسی کے معاملے پر بھی اسٹیفن ملر ٹرمپ کے سخت گیر مؤقف کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کیریبین اور بحرالکاہل میں منشیات کی مبینہ اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کی، جن پر قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی حمایت کی اور تہران کو کمزور کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کا دفاع کیا۔

ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نقصان اٹھانے کے بعد یہ واضح نہیں کہ ملر اب بھی ان پالیسیوں کے حامی ہیں یا نہیں۔

ٹرمپ کے سابق نائب صدر مائیک پنس کے چیف آف اسٹاف مارک شارٹ کے مطابق ملر کی تقرری سے صدر کو ایسا ساتھی ملا ہے جو ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا اور امیگریشن سمیت دیگر معاملات پر کانگریس سے ٹکراؤ سے گریز نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: مڈٹرم انتخابات میں شکست کے بعد جے ڈی وینس نے 2028 کے لیے اپنی سیاسی شناخت بنانے کی کوششیں تیز کر دیں: رپورٹ

سوسی وائلز نے جمعرات کی شب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اب وہ ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ 69 سالہ وائلز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف بننے والی پہلی خاتون تھیں۔

وہ کئی دہائیوں کے سیاسی تجربے کے ساتھ اس عہدے پر آئی تھیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نسبتاً منظم اندازِ کار کے لیے جانی جاتی تھیں۔ رواں سال ابتدائی مرحلے کے بریسٹ کینسر کا علاج کروانے کے باوجود انہوں نے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔

چیف آف اسٹاف امریکی صدر کے قریبی ترین عہدیداروں میں شمار ہوتا ہے، جو وائٹ ہاؤس کے عملے، صدر کے شیڈول اور مختلف حکومتی محکموں کے ساتھ رابطوں کی نگرانی کرتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسٹیفن ملر کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مڈٹرم انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ کو ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس اور ممکنہ تحقیقات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی سے عندیہ ملتا ہے کہ صدر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کے بجائے انہیں مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔