اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ چین نے تجارت کے معاملے میں انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے اور دنیا کو ایک سخت اور دھمکی آمیز خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ یکم نومبر سے تقریباً تمام مصنوعات پر برآمدی پابندیاں لگائے گا، حتیٰ کہ ان اشیا پر بھی جو چین میں تیار نہیں ہوتیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین کا یہ فیصلہ تمام ممالک پر لاگو ہوگا اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تجارت میں ایسا اقدام ناقابلِ یقین اور اخلاقی طور پر شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے اس فیصلے کے جواب میں امریکا یکم نومبر سے 100 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرے گا اور اسی تاریخ سے تمام اہم سافٹ ویئرز پر درآمدی پابندیاں بھی نافذ کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ چین نے واقعی یہ قدم اٹھایا ہے، لیکن اب وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ چین میں کچھ غیر معمولی ہو رہا ہے، وہاں کا رویہ حد درجہ جارحانہ ہو گیا ہے اور وہ دنیا بھر کے ممالک کو خطوط بھیج رہا ہے، جن میں نایاب معدنیات اور صنعتی اجزا پر برآمدی پابندیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جو عالمی منڈیوں میں شدید خلل ڈالے گی اور ہر ملک سمیت خود چین کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے چین کے اس غیر متوقع اقدام پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پچھلے چھ ماہ کے دوران چین کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اسی لیے یہ فیصلہ حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین طویل عرصے سے موقع کا انتظار کر رہا تھا، اور اب اس نے اپنا منصوبہ ظاہر کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے برسوں سے نایاب معدنیات اور دیگر عناصر کے ذخائر اکٹھے کر کے اجارہ داری قائم کی ہے، جو بدنیتی پر مبنی قدم ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا کے پاس بھی کئی شعبوں میں مضبوط برتری موجود ہے، لیکن انہوں نے اب تک اس کا استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ ضرورت پیش نہیں آئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین کا خط کئی صفحات پر مشتمل ہے، جس میں ان تمام اشیا کی تفصیل درج ہے جن کی برآمد روکنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، انہوں نے صدر شی سے بات نہیں کی کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی، یہ قدم آزاد دنیا کے تمام رہنماؤں کے لیے حیران کن ہے۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر شی سے دو ہفتے بعد جنوبی کوریا میں اے پیک اجلاس کے دوران ملاقات طے تھی، مگر اب اس کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ چین نے یہ جارحانہ پیغام ایسے دن بھیجا جب مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے بعد امن قائم ہوا، اور یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ محض اتفاق تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین کے اس اقدام کے جواب میں امریکا مالی طور پر جوابی کارروائی کرے گا، اور اگرچہ یہ وقتی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، مگر طویل مدت میں امریکا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق امریکا چین سے آنے والی مصنوعات پر محصولات میں بڑے اضافے اور دیگر سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں ٹرمپ نے درآمدی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف اور چین پر 20 فیصد اضافی محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں چین نے 34 فیصد ٹیرف اور نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں لگائی تھیں۔ بعدازاں دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف میں اضافہ اور کمی کے متعدد ادوار کے بعد تجارتی جنگ میں وقتی کمی ضرور آئی، تاہم اب حالات ایک بار پھر کشیدگی کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔







