واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کے روز پاکستان سمیت متعدد مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ ایک کثیرالملکی اجلاس منعقد کریں گے۔
اجلاس میں غزہ میں قیام امن، یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو کے لیے ممکنہ لائحہ عمل پر بات کی جائے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کی خواہش ہے کہ عرب اور مسلم ممالک اپنی افواج غزہ بھیجیں تاکہ اسرائیل کے انخلا کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال کو مستحکم کیا جا سکے اور تعمیر نو کے لیے مالی تعاون فراہم کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں حماس کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔ یہ خطاب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب درجنوں عالمی رہنما فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس سفارتی تبدیلی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا انتہا پسندی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب دنیا کے مختلف ممالک کا مؤقف ہے کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔
غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران، لبنان، شام، یمن اور قطر میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔
ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان دو ماہ کی جنگ بندی ہوئی تھی جو مارچ میں دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے باعث ختم ہو گئی۔ ان حملوں میں ایک ہی دن میں چار سو سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔
فروری میں صدر ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول اور فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کا ایک تجویز پیش کی تھی جسے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور نسلی تطہیر قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے اسے تعمیر نو کا منصوبہ قرار دیا تھا۔
واضع رہے کہ موجودہ صورتحال میں مسلم ممالک کی شمولیت پر عالمی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد امریکی حکومت یا شریک ممالک کی جانب سے کسی باضابطہ فیصلے یا حکمت عملی کے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔







