صدر ٹرمپ کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے معصوم شہریوں کو، خصوصاً مسیحی برادری کو، بے رحمی سے نشانہ بنایا تھا اور یہ قتل و غارت کئی برسوں بلکہ صدیوں بعد اس سطح پر دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی دہشت گردوں کو خبردار کر چکے تھے کہ اگر مسیحیوں کے قتل عام کو نہ روکا گیا تو سخت جواب دیا جائے گا، اور اب ایسا ہی ہوا ہے۔
امریکی فوج کے افریقہ میں آپریشنز کے ذمہ دار کمانڈ، ایفریکم نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فضائی حملہ نائجیریا کی حکومت کی درخواست پر کیا گیا اور اس میں داعش کے متعدد جنگجو ہلاک ہوئے۔ امریکی وزیرِ دفاع نے بھی سوشل میڈیا پر نائجیریا کی حکومت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
— Ministry of Foreign Affairs, Nigeria 🇳🇬 (@NigeriaMFA) December 26, 2025
افریکام کے مطابق یہ کارروائی سو بوتو ریاست میں ہوئی، جس سے مراد نائجیریا کی سوکوٹو ریاست ہے۔ یہ امریکی فوجی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے نائجیریا میں مسیحیوں کے مبینہ مظالم کے بعد پینٹاگون کو ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کا حکم دینے کا اعلان کیا تھا۔
نائجیریا کی حکومت نے اس سے قبل امریکی صدر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں مسلح گروہ مسلم اور مسیحی دونوں برادریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور صورتحال کو صرف ایک مذہبی زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔ نائجیریا کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کے روز بیان میں تصدیق کی کہ نائجیریا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف بین الاقوامی شراکت داروں، بشمول امریکا، کے ساتھ منظم سیکیورٹی تعاون کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق اسی تعاون کے تحت شمال مغربی علاقوں میں دہشت گرد اہداف پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
الجزیرہ کے نمائندے احمد ادریس کے مطابق سوشل میڈیا پر سوکوٹو ریاست کے ایک گاؤں کے قریب میزائل کے ٹکڑوں کی تصاویر گردش کر رہی ہیں، تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوکوٹو ریاست میں مسیحیوں پر حملوں کے واقعات شاذ و نادر ہی سامنے آئے ہیں کیونکہ وہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے۔
واشنگٹن سے الجزیرہ کے صحافی شہاب رتھانسی نے بتایا کہ نائجیریا میں امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیاں کچھ عرصے سے زیرِ غور تھیں اور صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی نائجیریا پر مسیحیوں کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عائد کرتے رہے تھے۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں کانگریس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دباؤ کے بعد نائجیریا کو مسیحیوں کے حقوق کے حوالے سے خاص تشویش کا حامل ملک قرار دیا گیا تھا، اور اب کرسمس کے دن امریکی کارروائی عمل میں آئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان کرسمس کے روز اس وقت جاری کیا جب وہ فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع اپنے مارالاگو کلب میں تعطیلات گزار رہے تھے۔







