قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ  کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مختلف فریقین کے ذریعے پیغامات کے تبادلے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ مسئلہ پہلے بھی حل کیا جا سکتا تھا۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ امریکی فوجی آپریشن کے اختتام کے بعد یہ آبی گزرگاہ ہر صورت دوبارہ کھول دی جائے گی، خواہ ایران کی رضامندی سے یا امریکا سمیت عالمی فوجی اتحاد کے ذریعے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت اپنے وسائل حماس، حزب اللہ اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت پر خرچ کر رہی ہے اور بلا ضرورت اپنے پڑوسی ممالک کو دھمکا رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسے دہشت گردی کی حمایت اور اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ بننے والے ہتھیار بنانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا واحد مقصد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کو نشانہ بنانا ہے۔

روبیو کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل کر کے دنیا کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے اہداف واضح ہیں اور انہیں مہینوں میں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں حاصل کر لیا جائے گا۔