قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مارکو روبیو نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مختلف فریقین کے ذریعے پیغامات کے تبادلے اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کے ذریعے نتائج حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ مسئلہ پہلے بھی حل کیا جا سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ امریکی فوجی آپریشن کے اختتام کے بعد یہ آبی گزرگاہ ہر صورت دوبارہ کھول دی جائے گی، خواہ ایران کی رضامندی سے یا امریکا سمیت عالمی فوجی اتحاد کے ذریعے۔
BREAKING: US Secretary of State Marco Rubio says President Doand Trump prefers diplomacy Iran war, in an exclusive interview with Al Jazeera.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) March 30, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/lWfXhAZkcK pic.twitter.com/CszjXmmN7L
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے فوجی آپریشن کے بعد بھی آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت اپنے وسائل حماس، حزب اللہ اور عراق میں شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت پر خرچ کر رہی ہے اور بلا ضرورت اپنے پڑوسی ممالک کو دھمکا رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسے دہشت گردی کی حمایت اور اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ بننے والے ہتھیار بنانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔
Marco Rubio on Iran:
— Clash Report (@clashreport) March 30, 2026
There are clearly people there talking to us in ways that previous leaders in Iran have not spoken to us before.
Some of the things they’re saying they’re willing to do — we have to see if they can actually do them.
We have to test that very strongly. pic.twitter.com/E8WvGYWq3r
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا واحد مقصد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کو نشانہ بنانا ہے۔
روبیو کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل کر کے دنیا کو بلیک میل کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے اہداف واضح ہیں اور انہیں مہینوں میں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں حاصل کر لیا جائے گا۔






