انھوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر چند پرانے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ امریکا نے 19 مرداد 1953 کو ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی، سنہ 1988 میں ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا اور بے گناہ خواتین و بچوں کو قتل کیا، آٹھ سالہ جنگ میں صدام حسین کی مکمل حمایت کی اور اب وہ ایرانی عوام سے ہمدردی کے بہانے حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آپس میں بات چیت کرتے ہیں اور وہ ان کے حل کے لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پُرامن مظاہرین کو قتل کرے گا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔

تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں ’براہِ راست مداخلت‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ اس واقعے کا پس منظر واضح ہو گیا ہے۔ ہم احتجاج کرنے والے تاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو جان لینا چاہیے کہ اس اندرونی معاملے میں امریکی مداخلت پورے خطے میں انتشار اور امریکی مفادات کی تباہی کے مترادف ہوگی۔