عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سدرن کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ کشتی بین الاقوامی پانیوں میں ایک معروف منشیات اسمگلنگ روٹ پر سفر کر رہی تھی اور اس پر منشیات کی موجودگی کی انٹیلی جنس تصدیق موجود تھی۔ حملہ جوائنٹ ٹاسک فورس "سدرن سپیئر" نے کیا۔ یہ رواں سال ستمبر سے امریکی فوج کی منشیات بردار کشتیوں پر 21 ویں کارروائی ہے، جس میں مجموعی طور پر 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی کانگریس، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض اتحادی ممالک نے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ انہیں یہ کارروائیاں کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے اور محکمہ انصاف کی رائے کے مطابق امریکی فوجی جو آپریشن میں حصہ لیتے ہیں، سزا سے مستثنیٰ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ مبینہ منشیات نیٹ ورک "کارٹیل دے لوس سولیس" کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا، جس کے بعد امریکا میں کسی بھی فرد کی طرف سے اس گروہ کو مدد فراہم کرنا قانوناً جرم ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق کارٹیل دے لوس سولیس "ٹرین دے آراگوا" کے ساتھ مل کر امریکہ کو منشیات بھیجنے میں ملوث ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا کے صدر مادورو اس کارٹیل کی قیادت کرتے ہیں، جس کی مادورو حکومت کئی بار تردید کر چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی بحریہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز "یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ" اور دیگر جنگی جہاز بحر کیریبین پہنچ گئے ہیں۔ "آپریشن سدرن سپیئر" میں حصہ لینے والے بحری جہازوں کی تعداد تقریباً ایک درجن اور اہلکار و افسران کی تعداد 12,000 تک ہے۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن منشیات کے خلاف اقدامات کے لیے ہے، تاہم تجزیہ کار اسے وینزویلا کے صدر مادورو پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ نے کہا کہ وہ مادورو سے ممکنہ بات چیت کے لیے تیار ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔

وینزویلا کی حکومت نے اس بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق خطے میں امریکی فورسز ہر ممکن خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔