سویڈش ریڈیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اولف کرسٹرسن کا کہنا تھا کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ واشنگٹن آخرکار ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے اعلان کردہ مقصد کو کیسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مجھے کوئی واضح یا مربوط حکمتِ عملی نظر نہیں آ رہی۔

اس سے قبل جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں واشنگٹن کے پاس کوئی واضح  انخلا حکمتِ عملی  موجود نہیں، امریکا مذاکرات کے دوران ایران کے سامنے  کمزور پوزیشن  میں نظر آیا۔

اسی طرح فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں نے بھی امریکا سے زیادہ سنجیدہ اور مستقل پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا ایران کے تیل کے ذخائر بھرنے کے قریب ہیں؟

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یورپ سے امریکہ پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی رہنماؤں کے یہ بیانات ایران تنازع کے حوالے سے مغرب میں بڑھتی ہوئی پالیسی اختلافات کو ظاہر کرتے ہیں۔