ُپریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی وفد کی میزبانی یا بیرونِ ملک سفارتی دورے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے، ایران کی سفارتی سرگرمیاں ملکی مفادات اور موجودہ علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائی جا رہی ہیں
انہوں نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے چین سفارتی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس وقت کوئی نیا ثالث یا ثالثی کا نیا عمل سامنے نہیں آیا، مختلف ممالک کی جانب سے رابطے ضرور جاری ہیں، لیکن کسی باقاعدہ مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق نہیں ہوا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان معاملات میں مثبت سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ قطر بھی ضرورت پڑنے پر رابطوں اور سہولت کاری میں اپنا کردار نبھا رہا ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان اس اہم بحری گزرگاہ سے متعلق مسلسل رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک عارضی طور پر محفوظ بحری راستے کی تشکیل پر کام کر رہے ہیں تاکہ جہاز رانی کو ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ صرف عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کے لیے کافی نہیں ہوگا، جب تک خطے میں امریکی فوجی کارروائیاں اور کشیدگی برقرار رہے گی، اس وقت تک صورتحال میں مکمل بہتری آنا ممکن نہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے کا انحصار خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، متعلقہ ممالک کے اقدامات اور محفوظ جہاز رانی کے لیے درکار شرائط پر ہوگا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال ایران اور عمان کے درمیان کسی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں گزشتہ برس مارچ میں ہونے والی امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیاں ہیں، انہی اقدامات کے باعث خطے میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے اثرات اب بھی برقرار ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکا کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکی پالیسیاں اور فوجی اقدامات ہیں، جبکہ ایران خطے میں استحکام اور محفوظ بحری نقل و حمل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔







