امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو ایران میزائل حملے جاری رکھے گا اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران پہلے ہی خطے کے ممالک کو خبردار کر چکا تھا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرے گا تو ایران براہِ راست امریکی سرزمین تک رسائی نہ ہونے کے باعث خطے میں قائم امریکی اڈوں، تنصیبات اور دیگر اثاثوں کو ہدف بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف دفاعی کارروائی ہے کیونکہ اسے غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے۔

ایک اور بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی مرکزی کمانڈ کی جانب سے ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم کی تصاویر جاری کرنے پر طنزیہ انداز میں شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ امریکی مرکزی کمانڈ کے اس اعتراف پر شکریہ کہ وہ ایران اور ایرانی پانی صاف کرنے کے ایک پلانٹ پر راکٹ حملوں کے لیے پڑوسی ممالک کی سرزمین استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایران ان نظاموں کو نشانہ بنائے گا تو پھر کسی کو شکایت نہیں کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ امریکی مرکزی کمانڈ نے حال ہی میں ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی بدولت امریکا ایران میں دور تک حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔