برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی ایک ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو امریکا کی جانب سے ’حقیقت پسندانہ رویہ‘ درکار ہوگا، جس میں ایران کے حقوق اور اس کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس لیے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا کہ دوسری طرف (امریکا-اسرائیل) کو ایران پر مزید حملے کی تیاری کا موقع ملے۔

علی بحرینی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں آئندہ لائحۂ عمل پر کوئی اختلاف ہے، اصل مسئلہ امریکا ہے، جو ’تضادات اور اندرونی تقسیم‘ کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر حکم دیا گیا تو امریکی فوجی دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔