برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ناکہ بندی جنگ بندی کی ایک ’سنگین خلاف ورزی‘ ہے اور جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو امریکا کی جانب سے ’حقیقت پسندانہ رویہ‘ درکار ہوگا، جس میں ایران کے حقوق اور اس کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس لیے مذاکرات نہیں کرنا چاہتا کہ دوسری طرف (امریکا-اسرائیل) کو ایران پر مزید حملے کی تیاری کا موقع ملے۔
🇺🇸 J.D. Vance: Open the Strait of Hormuz unconditionally, or we will invade you.
— Iran TV (@Iran_TVHD) April 24, 2026
🇮🇷Abbas Araghchi: The Strait will not be opened until Iran’s 11 trillion riyals in frozen assets are released pic.twitter.com/E8PJEBqoZ9
علی بحرینی نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں آئندہ لائحۂ عمل پر کوئی اختلاف ہے، اصل مسئلہ امریکا ہے، جو ’تضادات اور اندرونی تقسیم‘ کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اگر حکم دیا گیا تو امریکی فوجی دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔







