ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران اشتعال انگیز بیانات کو ایک سنجیدہ خطرہ سمجھتا ہے اور ہر ممکن ردِعمل کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایک فوجی اکیڈمی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل حاتمی کا کہنا تھا کہ آج ایرانی مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ مستعد اور مضبوط ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جارح کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور جو بھی حملے کی جرات کرے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اگر کسی دشمن نے غلطی کی تو جواب فوری اور حتمی ہوگا۔
خیال رہے کہ جنرل حاتمی کے یہ ریمارکس ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائی کی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران اس وقت اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ممکنہ خطرات ہیں، تو دوسری طرف سنگین معاشی بحران نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ یہ احتجاج حکومت اور مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکے ہیں۔
مہنگائی کے خلاف عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے حکومت نے فی کس تقریباً سات ڈالر ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے تقریباً 71 ملین افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تاہم یہ اقدام ایرانی کرنسی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔
کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث کھانے پینے کی بنیادی اشیاء، جیسے کوکنگ آئل، گوشت اور پنیر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈنمارک اور گرین لینڈ نے امریکا سے مذاکرات کی درخواست، ٹرمپ کا خوف یا کچھ اور، اصل مسئلہ کیا ہے؟
ایران کے نائب صدر محمد جعفر قائم پناہ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ہمہ جہت معاشی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کرپشن کے خاتمے اور معیشت کو نقصان پہنچانے والی اجارہ دارانہ اور مراعاتی پالیسیوں کے فوری خاتمے پر زور دیا۔
ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے تھے جو اب تک ملک کے 31 میں سے 27 صوبوں کے 280 مقامات تک پھیل چکے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک کم از کم 36 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 30 مظاہرین، چار بچے اور دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں ایران ایک جانب بیرونی دباؤ کے سامنے ڈٹا ہوا ہے، وہیں دوسری جانب اندرونی بے چینی کو قابو میں لانے کی جدوجہد جاری ہے۔







