امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل میں موجود امریکی سفیر کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا گیا کہ جو ملازمین یا ان کے اہلِ خانہ اسرائیل سے نکلنا چاہتے ہیں وہ آج ہی اپنی روانگی کا بندوبست کر لیں۔
ای میل میں بتایا گیا کہ سفارت خانے کی جانب سے غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ آج پروازوں میں نشستیں محدود ہوں۔
عملے کو ہدایت کی گئی کہ وہ بن گوریون ایئرپورٹ سے کسی بھی دستیاب پرواز میں جگہ حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ پہلے مرحلے میں ہی ملک سے باہر جا سکیں۔
سفیر نے ای میل میں یہ بھی لکھا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، تاہم جو لوگ جانا چاہتے ہیں وہ جلد از جلد روانگی کا منصوبہ بنائیں۔
The U.S. Embassy in Israel on Friday told its staff that it could leave the country and urged anyone considering departure to do so immediately, as the threat of an American strike on Iran looms. https://t.co/XF3lC1b54J
— The Washington Post (@washingtonpost) February 27, 2026
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کو فوری روانگی کی ہدایت اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے بھی ایک سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل میں تعینات غیر ہنگامی امریکی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو ایران یا اس کے اتحادی جوابی حملے کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسی تناظر میں امریکا نے خطے میں فوجی تیاریوں اور سفارتی عملے کی حفاظت سے متعلق اقدامات بھی تیز کر دیے ہیں۔






