امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق یکم اپریل سے اب تک امریکا کے 8 جدید ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہر ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ ڈالر یا اس سے زائد ہے، جس کے باعث مجموعی مالی نقصان تقریباً 72 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یہ رقم کئی جدید جنگی طیاروں، بشمول ایف-35 لائٹننگ II کی خریداری کے برابر بنتی ہے۔
یہ ڈرونز امریکی فوج کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں، جو انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی اور ہدفی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد میں تباہی امریکی فوج کی خطے میں نگرانی اور حملہ آور صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری سے اب تک ایران میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران نے بھی خطے کے 12 ممالک میں اہداف پر حملے کیے ہیں، جس سے تنازع مزید پھیل گیا ہے۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث یہ جنگ بندی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: انڈیا کو ایف-35 طیاروں کی فروخت کا معاملہ تعطل کا شکار، اسٹریٹیجک خدشات برقرار
دفاعی ماہرین کے مطابق صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ ڈرونز کی کمی امریکی فوج کی فیلڈ میں کارکردگی کو بھی متاثر کرے گی، کیونکہ یہ ڈرونز مشرق وسطیٰ میں امریکی آپریشنز کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپریل کے ابتدائی 10 دنوں میں 8 ڈرونز کی تباہی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نقصانات کی رفتار میں تیزی آ گئی ہے، جو مستقبل میں مزید بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔







