یہ پیش رفت آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان جاری تنازع میں ایک حساس مرکز بن چکی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کے بعد دوسری بار بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورس (آئی آر جی سی) نے امریکا پر جنگ بندی، بین الاقوامی قوانین اور بحری نیویگیشن اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آئی آر جی سی نیوی نے ایک امریکی ٹینکر پر فائرنگ کی، جس پر الزام تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے ریڈار بند کرکے گزر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی فورسز نے بندر عباس کے قریب فائرنگ کی، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت تہران کو پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں دی جائے گی، جبکہ ایران کو اپنا افزودہ یورینیم ذخیرہ بھی حوالے کرنا ہوگا۔
ایران نے ان مطالبات کو بارہا مسترد کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے، اگرچہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کسی ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچا جا سکتا ہے
The IRGC has announced in a statement that following a US military strike on a site near Bandar Abbas Airport in the early hours of this morning, an American airbase, described as the origin of the aggression, was targeted in response. pic.twitter.com/C0B7MeuzTU
— Iran Exclusive (@24_70xu) May 28, 2026
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی ’پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کرتی ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
خلیجی خطے میں کویت کی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا، جنہیں ’دشمنانہ اہداف‘ قرار دیا گیا۔ اس سے قبل ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔
کویتی حکام کے مطابق شہریوں کی جانب سے سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دفاعی نظام کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں، جبکہ عوام سے حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔
وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک ’بہترین معاہدہ‘ چاہتا ہے، لیکن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جو امریکی مفادات کے خلاف ہو۔
ٹرمپ نے عمان کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے، بصورت دیگر امریکا طاقت کا استعمال کرسکتا ہے۔
کابینہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا، ’’کوئی بھی آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل نہیں کرے گا‘‘، حالانکہ عمان طویل عرصے سے امریکا کا اتحادی اور ایران-امریکا مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ادھر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر صور اور زقوق المفضی کے بعض علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کرکے دریائے زہرانی کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے حزب اللہ کے ٹھکانوں کے قریب واقع ہیں۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوج، ٹینکوں اور فوجی تنصیبات کے خلاف درجنوں کارروائیاں کیں۔
گروپ نے نزدیکی جھڑپوں، مرکاوا ٹینکوں پر حملوں، آئرن ڈوم پلیٹ فارم کو نشانہ بنانے اور الجلیل کے علاقے میں ڈرون حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
دوسری جانب غزہ میں درجنوں فلسطینیوں نے حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد عودہ کی میت کے ساتھ جلوس نکالا، جو منگل کی شب ایک اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔
محمد عودہ کی ہلاکت ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے ان کے پیشرو عزالدین الحداد کو بھی مار دیا تھا، جبکہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے حماس قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔







