سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائی اب پیر، 6 اپریل 2026 تک ملتوی رہے گی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے برعکس بات چیت واقعی بہت اچھی جا رہی ہے۔

بعد ازاں فاکس نیوز کے پروگرام ’دی فائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران نے ابتدا میں سات دن کی مہلت مانگی تھی تاہم انہیں 10 دن دیے گئے۔

دوسری جانب امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے اپنی توانائی تنصیبات پر حملوں میں وقفے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر بھی تاحال کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی ایران سے متعلق اپنے بیانات اور حکمت عملی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک لحاظ سے امریکا پہلے ہی جنگ جیت چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اسے مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل بھی وہ ایران کے خلاف کارروائی کی ڈیڈ لائن میں کئی بار تبدیلی کر چکے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے توانائی نظام کو نشانہ بنایا جائے گا۔

پیر کو انہوں نے مثبت بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید پانچ دن کی مہلت دی، جبکہ جمعرات کا اعلان اسی سلسلے کی ایک اور توسیع قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا۔ اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر دباؤ کے باعث عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، جبکہ تیل بردار جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث اس گزرگاہ پر آمدورفت تقریباً معطل ہو چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق 10 روزہ وقفہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے یا اسے نئی سفارتی حکمت عملی کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم امریکا اور ایران کے متضاد بیانات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات جیسے بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کے تحت جنگی جرم تصور کیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس منصوبے کو ممکنہ جنگی جرم کی دھمکی قرار دیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگوں میں ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے جو بیک وقت شہری اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔