تفصیلات کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ نے ایک بیان میں ان پابندیوں کا اعلان کیا۔ جن ایرانی عہدیداروں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے اُن میں قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سیکریٹری کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کمانڈرز شامل ہیں۔

جمعرات کو جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا کو معلوم ہے کہ آپ چوری شدہ فنڈز دنیا بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں منتقل کر رہے ہیں، اور ہم آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ آپ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ تشدد روک دیں اور ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔

سکاٹ بیسنٹ نے ایک اور بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ہر وہ قدم اٹھائے گا جس کے ذریعے ایران کی ’آمرانہ حکومت‘ کو نشانہ بنایا جا سکے۔

اسی سلسلے میں امریکا نے 18 دیگر افراد پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ افراد غیر ملکی منڈیوں میں ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل فروخت کر کے بینکاری کے خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے رقوم منتقل کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ان پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور کمپنیوں کو امریکا میں موجود کسی بھی جائیداد یا مالی اثاثے تک رسائی نہیں مل سکے گی، جب کہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا۔ 

تاہم امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پابندیاں زیادہ تر علامتی ہوں گی کیونکہ بیشتر نامزد افراد کے پاس امریکی اداروں میں کوئی قابلِ ذکر فنڈز موجود نہیں۔

امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ان پابندیوں کے سلسلے میں مجموعی طور پر 18 افراد اور کمپنیوں کو نامزد کیا ہے۔