امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیاں وینزویلا کی کمپنی ایمپریسا ایئروناٹیکا ناسیونال ایس اے (EANSA) پر لگائی گئی ہیں، جس پر الزام ہے کہ وہ ایران کی پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنی قودس ایوی ایشن انڈسٹریز کے ڈیزائن کردہ ڈرونز کی اسمبلنگ اور نگرانی میں ملوث ہے۔
غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق محکمہ خزانہ نے کمپنی کے چیئرمین خوسے جیسس اُردانیتا گونزالیز کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے وینزویلا اور ایران کی مسلح افواج کے ارکان کے ساتھ مل کر وینزویلا میں بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران اور وینزویلا کو مہلک ہتھیاروں کی عالمی سطح پر پھیلاؤ کی کوششوں پر جوابدہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پابندیوں کے تحت امریکا میں موجود کسی بھی ممکنہ اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کے لیے ان افراد یا اداروں سے مالی لین دین پر پابندی عائد ہو گئی ہے۔
JUST NOW!! U.S. imposes sanctions on Iran-Venezuela ‘deadly weapons’ trade@USTreasury targets drone and missile networks as Washington warns of ‘reckless’ military cooperation between Tehran and Caracas pic.twitter.com/YHj5ebG36S
— Alex Raufoglu (@ralakbar) December 30, 2025
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران اور وینزویلا کے درمیان 2006 سے ڈرونز کی فراہمی اور تعاون جاری ہے۔ اسی دوران امریکا نے ایران کے اسلحہ جاتی شعبے سے منسلک مزید ایرانی افراد پر بھی نئی پابندیاں لگائی ہیں۔
خیال رہے کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنے میزائل یا جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا مزید حملے کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے ان بیانات پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا نے وینزویلا کے قریب تیل بردار جہاز ضبط کیے اور بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جسے وینزویلا نے “سمندری قزاقی” قرار دیتے ہوئے امریکا پر اپنی حکومت گرانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور وینزویلا کے خلاف امریکی پابندیاں خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔







