خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیش نے پیر کے روز اعلان کردہ اس معاہدے کے تحت امریکی مواد سے تیار کیے جانے والے بعض کپڑوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات پر ٹیرف میں رعایت حاصل کر لی ہے۔

نئے معاہدے کے مطابق واشنگٹن بنگلہ دیشی مصنوعات پر ٹیرف کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کرے گا، جب کہ اس کے بدلے ڈھاکہ امریکی مصنوعات کو اپنی منڈیوں تک مزید رسائی فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ کپڑوں کی صنعت بنگلہ دیش کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے اور چین کے بعد بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کپڑے برآمد کرنے والا ملک ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور دونوں کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک ’بے مثال رسائی‘ فراہم کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا بنگلہ دیش پر عائد اپنے ٹیرف کی شرح میں کمی کرے گا اور ملک سے کچھ مخصوص کپڑوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی نشاندہی کرے گا، جنہیں امریکا میں بغیر ٹیرف کے درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

مشترکہ بیان کے مطابق ان مصنوعات میں وہ اشیا شامل ہیں جو امریکی کپاس اور مصنوعی کپڑوں سے تیار کی گئی ہوں گی۔