خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے پیر کے روز دافوس ملٹری یونیورسٹی کے طلبا کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کوئی تر نوالہ نہیں۔ ان کے بقول اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ایران کمزور پوزیشن میں ہے اور وہ خود طاقت کی پوزیشن پر کھڑا ہے تو یہ اس کی سنگین غلط فہمی ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے شاید یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اپنی وسیع فوجی موجودگی کے باوجود اسے اس قدر سخت مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
We will defend Iran with all our strength and determination — Army commander-in-chief Hatami
— RT (@RT_com) February 23, 2026
Claim US unbeatable is false
Fought for 20 years in Vietnam, Afghanistan and ultimately withdrew in disgrace pic.twitter.com/17fzWKx9Mv
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ایران کو کمزور سمجھنے کی غلطی کر رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عظیم ایران کو زیر کرنا یا ہضم کرنا ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو ناقابلِ شکست قرار دینا بھی ایک غلط بیانیہ ہے۔
امیر حاتمی نے یاد دلایا کہ امریکا نے ویتنام، افغانستان اور عراق میں طویل جنگیں لڑیں، لیکن بالآخر وہاں سے پسپا ہونا پڑا۔ ان کے مطابق یہ مثالیں اس دعوے کو رد کرتی ہیں کہ امریکا ناقابلِ شکست ہے۔
مزید برآں انہوں نے اشارہ کیا کہ دشمن ایرانی عوام کو تھکانے اور کمزور کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے، تاہم ایران اس کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلح افواج کی ذمہ داری نہایت اہم اور فیصلہ کن نوعیت کی ہے۔
The Chief Commander of Iran’s Army, Major General Amir Hatami, says his forces will defend the country’s sovereignty and territorial integrity until their very last breath.
— Press TV 🔻 (@PressTV) February 23, 2026
Follow: https://t.co/GKZwI4ehqL pic.twitter.com/BOe6ghB1t2
واضح رہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس بات کے امکانات پر بحث جاری ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود نوعیت کی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاملے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ادھر ایک اضافی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیا گیا ہے، جہاں وہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ساتھ شامل ہوگا، تاکہ امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ فیصلے کی صورت میں مکمل تیاری برقرار رکھی جا سکے۔






