میڈیا رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے بااثر افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں اور انہیں ایرانی سیاسی و سیکیورٹی حلقوں میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا نے صرف ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہم رہنماؤں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے بھی انعامات مقرر کیے ہیں،کم از کم دس ایسے ایرانی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس عہدیدار ہیں جن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو ایک کروڑ ڈالر یا اس سے زائد رقم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان کے بقول امریکا مختلف ذرائع استعمال کر کے ایرانی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر چوکس ہے اور ایسے اقدامات سے ایرانی قیادت کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، ایران کی سیکیورٹی ادارے کسی بھی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی کشیدہ تعلقات پائے جاتے ہیں اور اس نوعیت کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ معلومات کے حصول اور سیکیورٹی معاملات اہم موضوع بن چکے ہیں۔